Tuesday, November 7, 2017

ایک سیلفی نے خیبر پختونخوا میں داعش کا پورا نیٹ ورک پکڑوادیا، کتنے لوگ تھے اور آپس میں کیسے بات کرتے تھے؟ ایسی تفصیلات کہ جان کر آپ کے واقعی ہوش اُڑجائیں گے

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) آج کل کے دہشت گرد اپنی مجرمانہ کاروائیوں کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ شدت پسند تنظیم داعش تو اس کام کی ماہر سمجھتی جاتی ہے، لیکن کبھی کبھار یہ سفاک مجرم اسی ٹیکنالوجی کے سبب اپنے بھیانک انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں داعش کا نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کا عبرتناک انجام بھی ایک ایسی ہی مثال ہے۔ 
اخبار ایکسپریس ٹربیون کے مطابق یہ 24 جون کی رات تھی جب پشاور کے نواحی علاقے میں دالازاک روڈ پر 28انٹیلی جنس و پولیس اہلکاروں نے ارسلان فلور ملز کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ یہ شہر سے 20 منٹ کی دوری پر واقع ایک نئی عمارت تھی لیکن حیران کن طور پر خالی پڑی تھی۔ سکیورٹی اہلکار یہاں ایک ایسے آدمی کی تلاش میں پہنچے تھے جسے وہ گزشتہ 8 سال سے ڈھونڈ رہے تھے۔

شوہر کے لیپ ٹاپ پر بیگم کو ایسی شرمناک ترین چیز مل گئی کہ کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچ سکتی تھی، منہ بند رکھنے کے لئے شوہر نے اسے موقع پر ہی قتل کر ڈالا
اہلکاروں نے بکتر بند گاڑی کے ذریعے گیٹ توڑا تو ساتھ ہی اندر سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ دریں اثناءسادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار بھی اندر داخل ہوگئے تھے۔ تب ہی فرسٹ فلور سے دھماکے کی آواز سنائی۔ اندر موجود دہشت گردوں نے دستی بم پھینکا تھا۔ فائرنگ کا تبادلہ صبح تک جاری رہا، اور تب کہیں جاکر دہشتگردوں نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں ان میں سے دو قریبی جھاڑیوں کی جانب فرار ہوتے ہوئے مارے گئے۔ ان میں سے ایک خیبرپختونخوا میں شدت پسند تنظیم داعش کا سربراہ محمد عارف تھا۔ دوسرا عمر افغانی تھا جو اس گروپ کیلئے فنڈز کا اہتمام کرتا تھا۔ 
فلور مل سے 130 الیکٹرانک ڈیٹونیٹر، 150 نان الیکٹرک ڈیٹونیٹر ، کیموفلاج ملبوسات، چار ٹیلی ویژن، ٹائپ رائٹر، بم بنانے کے آلات و پرزے اور سب مشین گنیں برآمد ہوئیں۔ سکیورٹی اداروں کے اس کامیاب آپریشن نے خیبرپختونخوا سے داعش کا خاتمہ کردیا۔ 
تحقیقات کے دوران کچھ حیران کن انکشافات سامنے آئے۔ معلوم ہوا کہ دہشتگرد آپس میں رابطے کیلئے روسی چیٹ ایپ ٹیلیگرام استعمال کرتے تھے۔ تحقیق کاروںکو پتا چلا تھا کہ درجن بھر افراد کا ایک گروپ اگرچہ فون کال نہیں کرتا تھا لیکن تین ماہ کے دوران ان کے انٹرنیٹ ڈیٹا کا مجموعی استعمال 18 جی بی سے زیادہ تھا۔ اس بات سے تحقیقات کو نیا رخ ملا۔ 15 جون کے روز پشاور کے علاقے چمکنی میں ایک حملہ کیا گیا جس میں تین پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ ایک پولیس کانسٹیبل ان حملہ آوروں میں سے ایک دہشتگرد کو مارنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس دہشت گرد کے موبائل فون میں ایک سیلفی تھی جس کے پس منظر میں 9خانوں والی ایک کھڑکی نظر آرہی تھی۔ بس یہی وہ چیز تھی جس نے بالآخر سکیورٹی اداروں کو دہشت گردوں کے ٹھکانے تک پہنچا دیا۔ دس دن کی سخت محنت کے بعد بالآخر اس کھڑکی کو ڈھونڈ لیا گیا۔ یہ اسی فلور مل کی کھڑکی تھی جہاں دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے بالآخر آپریشن کیاگیا، اور یوں ان دہشت گردوں کے ناپاک عزائم بھی ہمیشہ کے لئے خاک میں مل گئے۔
Share This
Previous Post
Next Post

0 comments: