کراچی (نیوزڈیسک) پاناما لیکس کے بعد پیرا ڈائز لیکس میں اہم شخصیات کی طرف سے آف شور کمپنیوں کے قیام اور ٹیکسوں کی ادائیگی سے گریز کے بارے میں رپورٹ نے دنیا بھر میں طوفان برپا کردیا ہے اور بھارت سمیت مختلف ممالک میں کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے تحقیقات کے دائرے وسیع کردیئے گئے جبکہ کئی پورپی ممالک میں بھی معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے،یورپی یونین نےٹیکس ہیونزکو بلیک لسٹ کرنے پر غور شروع کردیا ہے اوریونین کے وزرائے خزانہ کا ایک اہم اجلاس آج برسلز میں ہوگا۔ ادھر بھارت نے پیراڈائز لیکس کی تحقیقات کیلئے حکومتی تفتیشی پینل قائم کردیا ہے اور بھارت وزارت خزانہ کے مطابق سرکاری اداروں اور مرکزی بینک کے حکام تحقیقات کی نگرانی کرینگے۔
بھارتی سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹر ٹیکسز نے کہا ہے کہ پاناما لیکس پر کام کرنے والی کمیٹی کو پیراڈائز میں آنیوالوں ناموں کا جائزہ لینے کا کہہ دیا ہے ‘کمیٹی میں مرکزی بینک اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام شامل ہیں۔ یورپی اکنامک افیئرز کمشنر نے کہا ہے کہ نئے اسکینڈلز سے ایک بار پھر واضح ہوگیا کہ اہم کمپنیاں اور امیر شخصیات ٹیکسوں سے بچنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں جبکہ روس نے کہا ہے کہ اس کے لوگوں کے تمام کاروبار قانون کے مطابق ہیں ۔
ادھر یورپی یونین نے پیراڈائز لیکس میں ملکہ برطانیہ سمیت اہم شخصیات اورکمپنیوں کی طرف سے ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچنے کے بارےمیں رپورٹ پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکس ہیونز بلیک لسٹ کرنے پر غور شروع کردیا ہے اور اس ضمن میں یونین کے وزرائے خزانہ کااہم اجلاس آج برسلزمیں ہوگا۔ یورپی یونین کے حکام کا کہناہےکہ یونین پہلے ہی ایسےمقامات کو بلیک لسٹ کرنےپر غورکررہی تھی جہاں ٹیکسوں سے بچنے کے مواقع دیئے جاتے ہیں تاہم اس حوالے کوئی حتمی فیصلہ منگل کوبھی متوقع نہیں۔ پاناما پیپرز کے بعد سے یورپی یونین ایسے اقدامات پر کام کررہی ہے۔

0 comments: